عربی (اصل)
61 صحيح حديث الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ(هُوَ الْمِقْدادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ)أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلاً مِنَ الْكُفّارِ، فَاقْتَتَلْنا، فَضَرَبَ إِحْدى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ قَقَطَعَها، ثُمَّ لاذَ مِنّي بِشَجَرَةٍ، فَقالَ أَسْلَمْتُ للهِ، أَأَقْتُلُهُ يا رَسولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَها فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَقْتُلْهُ، فَقالَ يا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ ما قَطَعَها؛ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقولَ كَلِمَتُه الَّتي قَالَ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Allah the Exalted said: 'I am as My servant thinks of Me, and I am with him when he remembers Me. If he remembers Me within himself, I remember him within Myself. If he mentions Me in an assembly, I mention him in an assembly better than theirs. If he draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length. If he draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom. And if he comes to Me walking, I come to him running.'"
اردو ترجمہ
سیدنا مقداد بن اسود یعنی مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے، انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کیا: اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہے: میں اللہ پر ایمان لے آیا، تو کیا یا رسول اللہ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر تم اسے قتل نہ کرنا۔“انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر بھی یہی فرمایا:”اسے قتل نہ کر، کیوں کہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا، اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اس کلمہ کا اقرار نہیں کیا تھا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 61]
