عربی (اصل)
513 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَانْتَهَرَني، وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَاوَكَانَ يَوْمَ عيدٍ يَلْعَبُ فِيهِ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ: حَسْبُكِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَاذْهَبِي
انگریزی ترجمہ
A'ishah (may Allah be pleased with her) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) entered upon me while two young girls were singing the songs of Bu'ath. He lay down on the bed and turned his face away. Abu Bakr entered and rebuked me, saying: "The musical instrument of Satan near the Prophet (peace be upon him)!" The Messenger of Allah turned to him and said: "Leave them." When he was not paying attention, I signaled to them and they left. It was a day of Eid, and the Abyssinians were playing with shields and spears. Either I asked the Prophet or he said: "Would you like to watch?" I said: "Yes." He had me stand behind him, my cheek against his cheek, and he said: "Carry on, O Banu Arfidah!" until I had had enough.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممیرے گھر تشریف لائے، اس وقت میرے پاس (انصار کی) دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں کی نظمیں پڑھ رہی تھیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمبستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا، اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ یہ شیطانی باجا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی موجودگی میں؟ آخر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”جانے دو خاموش رہو۔“پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں، اور یہ عید کا دن تھا، حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے، اب یا خود میں نے کہا یا آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا کھیل دیکھو گی؟“میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمفرما رہے تھے:”کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ“(یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا)، پھر جب میں تھک گئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بس؟“میں نے کہا: جی ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جاؤ۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 513]
