عربی (اصل)
290 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهَا(عَائِشَةَ)مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ، الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ: شَبَّهْتُمُونَا بالْحُمُر وَالْكِلاَب وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقبْلَةِ، مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْد رِجْلَيْهِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha, from Masruq: It was mentioned in Aisha's presence what breaks the prayer — a dog, a donkey, and a woman were mentioned. Aisha said: "You have equated us with dogs and donkeys! By Allah, I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) praying while I was lying on the bed between him and the qiblah. When I needed something, I would slip away because I did not like to face him."
اردو ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں (یعنی کتا، گدھا اور عورت)، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا، حالانکہ اللہ کی قسم! خود نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپصلی اللہ علیہ وسلماور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی، مجھے کوئی ضرورت پیش آتی اور چونکہ یہ بات مجھے پسند نہ تھی کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے (جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ کو تکلیف ہو، اس لیے میں آپ کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
