عربی (اصل)
216 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَان وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ؛ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the call to prayer is made, Satan turns his back and passes wind so that he will not hear the adhan. When the call is over, he comes back. When the iqamah is pronounced, he turns his back again. When the iqamah is over, he comes back to distract the person praying, saying: 'Remember this, remember that' — things that the person had not been thinking about — until he does not know how many rak'ahs he has prayed."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے، اور جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے، جب تکبیر بھی ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے کہ: فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر؛ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا، اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 216]
