عربی (اصل)
1888 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: أَثْنى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ، لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا وَاللهُ حَسِيبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذلِكَ مِنْهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Bakrah: A man praised another man in the presence of the Prophet (peace be upon him). He said: "Woe to you! You have cut your companion's neck" — he repeated it several times. Then he said: "If one of you must praise his brother, let him say: 'I consider so-and-so to be such, and Allah is his Reckoner. I do not declare anyone pure before Allah. I consider him to be such and such' — if he knows that about him."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی، تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔“(آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کئی مرتبہ اسی طرح فرمایا) پھر فرمایا:”اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا، میں سمجھتا ہوں وہ ایسے ایسے ہے اگر اس کا حال جانتا ہو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1888]
