عربی (اصل)
1788 صحيح حديث أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ، أَنَّ اللهَ يَقُولُ لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُك مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي، فَأَبَيْتَ إِلاَّ الشِّرْك
انگریزی ترجمہ
Narrated Anas, who attributed it to the Prophet: Allah will say to the person with the lightest punishment in the Fire: "If you had everything on earth, would you ransom yourself with it?" He will say: "Yes." He will say: "I asked you for something easier than this when you were in the loins of Adam — that you not associate partners with Me — but you insisted on associating partners."
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے مرفوعاً بیان کیا کہ”اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا: اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روزِ ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1788]
