عربی (اصل)
1697 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ، فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلاَّ كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلاَّ قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مَنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ قَالَ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسِّرُونَ لَعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَبُيَسِّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ(فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى)الآية
انگریزی ترجمہ
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: We were at a funeral in the Baqi al-Gharqad graveyard when the Prophet (peace be upon him) came and sat down, and we sat around him. He had a small stick with which he was poking the ground. He lowered his head and began scraping the ground with it. Then he said: "There is no one among you, no soul that has been born, except that his place in Paradise or the Fire has already been written, and whether he will be wretched or blessed." A man said: "O Messenger of Allah, shall we not rely on our destiny and abandon our deeds? For whoever is destined to be among the people of happiness will eventually do the deeds of the people of happiness, and whoever is destined to be among the wretched will do the deeds of the wretched." The Prophet said: "As for the people of happiness, they are facilitated toward the deeds of happiness. And as for the people of wretchedness, they are facilitated toward the deeds of wretchedness." Then he recited: "As for he who gives and fears Allah and believes in the best reward, We will facilitate for him the way of ease." (al-Layl: 5-7)
اردو ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، اتنے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے اور بیٹھ گئے، ہم بھی آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اردگرد بیٹھ گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بدبخت۔“اس پر ایک صحابی نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسا کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہوگا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس آیت کی تلاوت فرمائی:﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ﴾[سورة الليل: 5-7]”جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور پرہیزگاری اختیار کی اور اچھے دین کو سچا مانا، اس کو ہم آسانی کے گھر یعنی بہشت میں پہنچنے کی توفیق دیں گے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1697]
