عربی (اصل)
1559 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ علِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي، فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِنْسَانٍ: انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، وَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ، وَيَقُولُ: قُمْ أَبا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) came to the house of Fatimah but did not find 'Ali at home. He asked, "Where is your cousin?" She said, "There was something between us, and he became angry with me and went out. He did not take his midday nap here." The Messenger of Allah (peace be upon him) said to someone, "Go and find out where he is." The man came back and said, "O Messenger of Allah, he is sleeping in the mosque." The Messenger of Allah (peace be upon him) went to him while he was lying down. His cloak had fallen off his side and dust had gotten on him. The Messenger of Allah (peace be upon him) began wiping the dust off him, saying, "Get up, O Abu Turab (Father of Dust)! Get up, O Abu Turab!"
اردو ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟“انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک شخص سے کہا:”علی کو تلاش کرو کہاں ہیں؟“وہ آئے اور بتایا کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے:«قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ»”اٹھو ابو تراب! اٹھو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1559]
