عربی (اصل)
1427 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لاَ تَلُدُّونِي فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلدُّونِي قُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَقَالَ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلاَّ لُدَّ وَأَنَا أَنْظرُ، إِلاَّ الْعَبَّاسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: We administered medicine to him (the Prophet) during his illness by pouring it into the side of his mouth. He kept gesturing to us not to do it. We said: "It is just the sick person's dislike of medicine." When he recovered, he said: "Did I not forbid you from administering medicine to me?" We said: "It was just the sick person's dislike of medicine." He said: "Every person in this house shall have medicine administered to them while I watch — except al-Abbas, for he was not present with you."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے مرض میں ہم آپ کے منہ میں دوا ڈالنے لگے تو آپ نے اشارے سے دوا دینے سے منع فرمایا۔ ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا پینے سے (بعض اوقات) جو ناگواری ہوتی ہے یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے (اس لیے ہم نے اصرار کیا) تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”گھر میں جتنے آدمی ہیں سب کے منہ میں میرے سامنے دوا ڈالی جائے۔ صرف سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس سے الگ ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ اس کام میں شریک نہیں تھے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1427]
