عربی (اصل)
1375 صحيح حديث أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعْرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا؛ أَفَأَصِلُ فِيهِ فَقَالَ: لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصولَةَ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The example of the believer is like a tender plant. The wind keeps bending it from every direction. Similarly, the believer continues to be afflicted with trials. The example of the hypocrite is like a cedar tree; it does not shake until it is uprooted at once."
اردو ترجمہ
سیدنا اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو چیچک نکلی، اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1375]
