عربی (اصل)
1374 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله، عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالوا: مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ: فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever Allah wishes good for, He afflicts him with trials."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔“صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں، وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔“صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذا دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1374]
