عربی (اصل)
1202 صحيح حديث أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلاً، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هذَا لَكُمْ، وَهذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ لَهُ: أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هذَا مِنْ عَمَلِكمْ، وَهذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ
انگریزی ترجمہ
Abu Humayd al-Sa'idi (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) appointed a tax collector. When the collector finished his work, he came and said: "O Messenger of Allah, this is for you and this was given to me as a gift." The Prophet said to him: "Why did you not sit in your father's or mother's house and see whether gifts would be given to you or not?" Then the Messenger of Allah (peace be upon him) stood up in the evening after prayer, testified to the oneness of Allah and praised Him as He deserves, then said: "What is the matter with a tax collector whom we appoint, and he comes to us saying: 'This is from your work and this was given to me as a gift'? Why did he not sit in his father's or mother's house and see whether he would be given gifts or not? By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, none of you takes anything from it unjustly except that he will carry it on his neck on the Day of Judgment. If it is a camel, it will be groaning; if it is a cow, it will be mooing; if it is a sheep, it will be bleating. I have conveyed the message." Abu Humayd said: Then the Messenger of Allah raised his hand so high that we could see the whiteness of his armpits.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔“اس کے بعد آپ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا:«أَمَّا بَعْدُ»”اما بعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں (جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لئے) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔“سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1202]
