عربی (اصل)
1159 صحيح حديث أنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ مَكَّةَ، وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ، يَعْني شَيْئًا؛ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ؛ وَكَانَتْ أُمُّهُ، أُمُّ أَنَسٍ، أُمُّ سُلَيْمٍ، كَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، فَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا، فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاَتَهُ، أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِ أَهْلِ خَيْبَرَ، فَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّهِ عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him): When the Muhajirun came from Mecca to Medina, they had nothing in their hands. The Ansar were the people of the land and property, so they shared with them on the condition that they would give them the fruits of their wealth every year and spare them the work and expense. His mother — the mother of Anas — was Umm Sulaym, who was also the mother of Abdullah ibn Abi Talhah. The mother of Anas had given some date palms to the Messenger of Allah (peace be upon him), and the Prophet (peace be upon him) gave them to Umm Ayman, his freed slave and the mother of Usamah ibn Zayd. When the Prophet (peace be upon him) finished with the people of Khaybar and returned to Medina, the Muhajirun returned to the Ansar the gifts they had been lending them.
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی بھی سامان نہ تھا۔ انصار زمین اور جائیداد والے تھے۔ انصار نے مہاجرین سے یہ معاملہ کر لیا کہ وہ اپنے باغات میں سے انہیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور اس کے بدلے مہاجرین ان کے باغات میں کام کیا کریں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، جو عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کی بھی والدہ تھیں، انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو کھجور کا ایک باغ ہدیہ دے دیا تھا، لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے وہ باغ اپنی لونڈی ام ایمن رضی اللہ عنہا، جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں، کو عنایت فرما دیا۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجب خیبر کے یہودیوں کی جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے تحائف واپس کر دیے جو انہوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کا باغ بھی واپس کر دیا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کے بجائے اپنے باغ میں سے کچھ درخت عنایت فرما دیے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1159]
