عربی (اصل)
1158 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا، لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأَحْزَابِ: لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا وقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذلِكَ فَذُكِرَ لِلنَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Umar: The Prophet (peace be upon him) said to us when he returned from the Confederates: "No one should pray Asr except at Banu Qurayza." Some of them caught the time of Asr on the way, and some said: "We will not pray until we reach there." Others said: "Rather, we will pray; that is not what was meant by it." This was mentioned to the Prophet (peace be upon him), and he did not rebuke any of them.
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمغزوۂ خندق سے فارغ ہوئے تو ہم سے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کوئی شخص بنوقریظہ کے محلے میں پہنچنے سے پہلے نماز عصر نہ پڑھے۔“لیکن جب عصر کا وقت آیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے راستے ہی میں نماز پڑھ لی اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ہم بنوقریظہ کے محلے میں پہنچنے پر نماز عصر پڑھیں گے اور کچھ حضرات کا خیال یہ ہوا کہ ہمیں نماز پڑھ لینی چاہیے، کیونکہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکا مقصد یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کر لیں۔ پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کیا گیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کسی پر بھی ملامت نہیں فرمائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1158]
