عربی (اصل)
1100 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالَ: وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِى عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا، إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ؛ وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "May Allah curse the thief who steals an egg and his hand is cut off, or who steals a rope and his hand is cut off."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مخزومیہ خاتون (فاطمہ بنت اسود) جس نے (غزوۂ فتح کے موقع پر) چوری کر لی تھی، اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے گفتگو کون کرے! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کو بہت عزیز ہیں، ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے اس بارے میں کچھ کہا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے؟“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمکھڑے ہوئے اور خطبہ دیا (جس میں) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلمبھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحدود/حدیث: 1100]
