عربی (اصل)
1029 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ، فَدَعَالَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ قُلْتُ: لاَ ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ فَبِعْتُهُ، فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِى، قَالَ: مَا كُنْتُ لآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذلِكَ فَهُوَ مَالُكَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Jabir: He was riding a camel of his that had become exhausted. The Prophet (peace be upon him) passed by and struck it and prayed for it, and it began to travel at a pace it had never traveled before. Then he said: "Sell it to me for one uqiyah." I said: "No." Then he said: "Sell it to me for one uqiyah." So I sold it and reserved the right to ride it home. When we arrived, I brought the camel to him and he paid me its price. Then I left, and he sent after me and said: "I would not take your camel. Take your camel — it is yours."
اردو ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک غزوہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکا ادھر سے گزر ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔“میں نے انکار کیا مگر آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ پر بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم مدینہ پہنچ گئے تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کر دیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا۔ میں حاضر ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔“اور قیمت واپس نہیں لی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1029]
