عربی (اصل)
1028 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمًا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ؛ فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ؛ أَلاَ وَإِنَّ لِكلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلاَ إِنَّ حِمَى اللهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ
انگریزی ترجمہ
Narrated al-Nu'man ibn Bashir: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "The lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are ambiguous matters that many people do not know. Whoever avoids the ambiguous matters has safeguarded his religion and his honor. Whoever falls into the ambiguous matters is like a shepherd who grazes around a sanctuary, liable to enter it at any moment. Indeed, every king has a sanctuary, and the sanctuary of Allah on His earth is His prohibitions. Indeed, in the body there is a morsel of flesh which, if it is sound, the whole body is sound; and if it is corrupt, the whole body is corrupt. Indeed, it is the heart."
اردو ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا، آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے تھے:”حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہے کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو کوئی شبہے کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو (شاہی محفوظ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے (اور شاہی مجرم قرار پائے) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ (پس ان سے بچو اور) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں وہ بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1028]
