عربی (اصل)
أناالأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِيمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، دَخَلَ عَلَىعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَوَهُوَ بِالْبَابِ قَدْ حَاصَرُوهُ، فَقَالَ: اخْتَرْ إِحْدَى ثَلاثٍ، إِمَّا أَنْ يُحْرَقَ لَكَ بَابٌ سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَخْرُجَ، ثُمَّ تَقْعُدَ عَلَى رَاحِلَتِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا، وَإِمَّا أَنْ تَقْعُدَ عَلَى رَاحِلَتِكَ فَتَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ، وَإِمَّا أَنْ تَخْرُجَ بِمَنْ مَعَكَ فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً تُقَاتِلُ، فَإِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَمَّا قَوْلُكَ أَنْ أَخْرُجَ عَلَى رَاحِلَتِي حَتَّى أَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَسْتَحِلُّونِي فَأَنَا بِهَا، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَلْحَقُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ"، فَلَنْ أَكُونَ إِيَّاهُ، وَأَمَّا قَوْلُكَ: أَنْ أَقْعُدَ عَلَى رَاحِلَتِي فَأَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ، فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، وَأَمَّا قَوْلُكَ: اخْرُجْ بِمَنْ مَعَكَ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَالَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَرَاقَةِ مِلْءِ مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ.
انگریزی ترجمہ
Shaddad ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The best way to seek forgiveness is to say: 'O Allah, You are my Lord. There is no god but You. You created me and I am Your servant. I am upon Your covenant and promise as much as I can. I seek refuge in You from the evil of what I have done. I acknowledge Your favor upon me, and I acknowledge my sin. So forgive me, for none forgives sins except You.'"
اردو ترجمہ
محمد بن عبدالملک نے بیان کیا کہ بے شک مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے اور وہ دروازے کے پاس تھے، (بلوائیوں نے) ان کا محاصرہ کر رکھا تھا تو (مغیرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تین چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کریں، یا تو ہم آپ رضی اللہ عنہ کے لیے اس دروازے کے علاوہ جس پر وہ (بلوائی) ہیں، ایک اور دروازہ جلا دیا جائے تو آپ نکل جانا، پھر اپنی سواری پر بیٹھنا اور مکہ چلے جانا، وہ آپ کو جب کہ آپ وہاں ہوں گے ہرگز شیریں محسوس نہ کریں گے اور یا آپ اپنی سواری پر بیٹھیں اور شام چلے جائیں۔ بے شک وہ اہل شام ہیں اور ان میں معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یا آپ جو آپ کے ساتھ ہیں، انہیں لے کر نکلیں، یقیناً آپ کے ساتھ بڑی تعداد اور قوت ہوگی، آپ لڑائی کریں، آپ حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی تیری یہ بات کہ میں اپنی سواری پر نکلوں یہاں تک کہ مکہ پہنچ جاؤں تو بے شک وہ، مجھے جب کہ میں وہاں ہوا، ہرگز شیریں نہ سمجھیں گے، بے شک میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”قریش کا ایک آدمی مکہ میں الحاد کرے گا، اس پر جہان کا عذاب بہایا جائے گا،“سو میں ہرگز وہی نہیں ہوں گا، رہی تیری یہ بات کہ میں اپنی سواری پر بیٹھوں اور شام چلا جاؤں، بے شک وہ اہل شام ہیں اور ان میں معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں تو میں ہرگز اپنے دارالہجرت کو اور اس میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پڑوسی کو نہیں چھوڑوں گا اور رہی تیری یہ بات کہ میں ان کو جو میرے ساتھ ہیں، لے کر نکلوں، تو میں ہرگز وہ پہلا نہ ہوں گا جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی، ناحق خون بہانے سے شیشی بھر کر، مخالفت کرے۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 261]
