عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْمَعْمَرٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا، فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ، فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ، أَلا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، قَالَ: فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ.
انگریزی ترجمہ
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): There was a Makhzumi woman who used to borrow goods and deny having them. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered her hand to be cut off. Her family came to Usamah and spoke to him, and Usamah spoke to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The Prophet said to him: "O Usamah, I see you interceding regarding one of the legal punishments of Allah!" Then the Prophet stood up and delivered a sermon, saying: "Those who came before you were destroyed because when a noble person among them stole, they would leave him, but when a weak person among them stole, they would cut his hand. By the One in Whose Hand is my soul, if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut her hand." Then he cut the hand of the Makhzumi woman.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت، جو ادھار سامان لے کر انکار کر دیا کرتی تھی نے چوری کی، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس کے گھر والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے (معافی کی) بات کی، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے بات کی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اسامہ! کیا آپ مجھ سے اللہ تعالیٰ کی حد کے متعلق بات (سفارش) کر رہے ہیں۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمخطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: آپ سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی خاندانی آدمی چوری کرتا، تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا، تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر (چوری کرنے والی) فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 804]
