عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، فِيمَا حَدَّثَنَا مِنَ الْمَغَازِي، قَالَ: قَالَمَعْمَرٌ، قَالَالزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَوَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِيصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ، أَتَاهُ عَيْنَهُ الْخُزَاعِيُّ، فَقَالَ: إِنَّنِي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، فَذَكَرَ ابْنُ يَحْيَى الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صَدِّ الْمُشْرِكِينَ إِيَّاهُمْ عَنِ الْبَيْتِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْقَضِيَّةِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا"، وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
انگریزی ترجمہ
Al-Miswar ibn Makhramah and Marwan ibn al-Hakam narrated, each corroborating the other, the lengthy hadith of the Treaty of Hudaybiyyah: The Messenger of Allah (peace be upon him) went out with over thirteen hundred Companions. At Dhul-Hulayfah, he garlanded the sacrificial animal, marked it, and entered ihram for Umrah. He sent ahead a spy from Banu Khuza'ah. At Ghadir al-Ashtat near Usfan, the spy informed him that the Quraysh and their allies had gathered to prevent him from reaching the Ka'bah.
اردو ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمصلح حدیبیہ کے سال تیرہ سو سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے، تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، اور بنو خزاعہ کے ایک شخص کو جاسوس بنا کر آگے بھیجا تاکہ وہ قریش کے حالات کی خبر دے۔ آپ عسفان کے قریب غدیر اشطاط پر پہنچے، تو خزاعی جاسوس نے آ کر بتایا کہ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی نے آپ کے خلاف احابیش اور دیگر جماعتیں اکٹھی کر لی ہیں، وہ آپ سے لڑیں گے اور بیت اللہ سے روکیں گے۔ آپ نے فرمایا:«مجھے مشورہ دو۔»ابن یحییٰ نے مشرکوں کے بیت اللہ سے روکنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور آخر میں کہا کہ فیصلے کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:«اٹھو، قربانیاں کر دو اور سر منڈوا لو۔»انہوں نے باقی حدیث بھی بیان کی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 505]
