عربی (اصل)
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنَاجَعْفَرٌ، قَالَ: ثَنِيأَبِي، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ، فَنَزَلَ بِالْمَدِينَةِ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مَا يَفْعَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نَفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ، كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ" وَلَبَّى النَّاسُ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلا يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَمِنْ خَلْفِهِ مثل ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِهِ مثل ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مثل ذَلِكَ، قَالَ جَابِرٌ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ فَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا، فَخَرَجْنَا لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ اسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 قَالَ أَبِي: فَقَرَأَ فِيهِ بِالتَّوْحِيدِ، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، ثُمَّ قَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَرَقَى عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ أَوْ غَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلامِ ثُمَّ نزل حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا، فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، قَالَ: يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً، قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ قَالَ: فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ، قَالَ: لِلأَبَدِ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ هَدْيًا، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَمَرَنِي بِهِ أَبِي، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، قَالَ أَبِي: هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ، قُلْتُ: إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، وَقَالَتْ: أَمَرَنِي بِهِ أَبِي، فَقَالَ: صَدَقَتْ صَدَقَتْ صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ، قَالَ جَابِرٌ: وَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَعِيَ الْهَدْيُ، قَالَ: فَلا تَحِلَّ، قَالَ: وَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلاثًا وَسِتِّينَ وَأَعْطَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ نَحَرْتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ، وَقَالَ: قَدْ وَقَفْتُ هَهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: قَدْ وَقَفْتُ هَهُنَا وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
انگریزی ترجمہ
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) narrated the lengthy hadith of the Prophet's Hajj, stating that the Messenger of Allah (peace be upon him) stayed in Madinah for nine years without performing Hajj. Then it was announced that the Messenger of Allah (peace be upon him) would perform Hajj that year. Many people came to Madinah, all hoping to follow his example.
اردو ترجمہ
جعفر بن محمد کے والد محمد باقر فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ بنی سلمہ کے محلہ میں تھے، ہم نے ان سے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہمیں بتایا:”رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممدینہ میں نو سال رہے، (لیکن اس عرصہ میں) آپ نے حج نہیں کیا، پھر لوگوں میں اعلان کرایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس سال حج کرنے جا رہے ہیں، یہ سن کر بہت سے لوگ مدینہ آ گئے اور ان میں سے ہر ایک کی یہ حسرت تھی کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی اقتدا کرے اور وہی کچھ کرے جو آپ کریں گے، ذیقعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ہمراہ (حج کے لیے) روانہ ہوئے، جب ہم ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے، تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا، انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”غسل کریں اور (شرمگاہ پر) مضبوطی سے کپڑا باندھ کر احرام باندھ لیں۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم(مکہ کی طرف) نکلے، حتی کہ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیداء پر چڑھی، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے توحید کا اعلان کیا:«لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ»”میں حاضر ہوں الہی! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ہر قسم کی بادشاہت تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“لوگ اس میں ذالمعارج وغیرہ کا اضافہ کرتے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ میں نے تاحد نگاہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے آگے پیچھے، دائیں، بائیں سوار اور پیادہ لوگوں کا جم غفیر دیکھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمارے درمیان تھے، آپ پر قرآن کا نزول ہوتا تھا، آپ اس کی تاویل و تفسیر جانتے تھے، آپ جو جو عمل کرتے، ہم بھی ویسے ہی کرتے جاتے۔ ہم حج ہی کے ارادے سے نکلے تھے، جب ہم کعبہ پہنچے، تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے، (طواف سے) فارغ ہو کر آپ مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت ادا کیں، پھر یہ آیت تلاوت کی:﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾”مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ“۔ میرے والد کہتے ہیں: آپ نے نماز میں سورت اخلاص اور سورت کافرون کی تلاوت کی، پھر حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفا کی طرف تشریف لے گئے، پھر یہ آیت تلاوت کی:﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“، پھر فرمایا:”ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔“آپ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے، جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھی:«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ أَوْ غَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور تمام تعریفیں اسی کو زیبا ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام جماعتوں کو اکیلے ہی شکست دے دی۔“پھر دعا مانگی، یہی کلمات دہرائے، پھر دعا مانگی، یہی کلمات دہرائے، پھر آپ اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم نشیب (اترائی) پر پڑے تو دوڑنے لگے، جب چڑھائی آئی تو معمول کے مطابق چلنے لگے، حتی کہ جب مروہ کے پاس آئے، تو اس پر چڑھ گئے جب بیت اللہ پر نظر پڑی، تو آپ نے مروہ پر بھی وہی کلمات ادا کیے جو صفا پر ادا کیے تھے۔ جب ساتویں چکر میں مروہ پر چڑھے تو فرمایا:”لوگو! اگر وہ حالات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئے پہلے معلوم ہو جاتے، تو میں ہدی (قربانی) کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اسے (حج کو) عمرہ میں تبدیل کر دیتا، چنانچہ جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ احرام کھول دے اور اس (حج) کو عمرہ میں تبدیل کر لے۔“راوی کہتے ہیں: سب لوگوں نے احرام کھول دیا۔ سراقہ بن جعشم جو کہ مروہ پہاڑی سے نیچے کھڑے تھے، کہنے لگے: اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! یہ (حکم) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ کہتے ہیں: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا:”یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔“پھر فرمایا:”قیامت کے روز تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔“سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے جانور لے کر آئے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی مدینہ سے اپنے ساتھ قربانی لائے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے احرام کھول کر رنگ دار کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ بھی لگایا ہوا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا، تو وہ کہنے لگیں:”میرے والد محترم نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔“جعفر کہتے ہیں: میرے والد کہتے تھے: یہ (اگلے الفاظ) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان نہیں کیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں کہا کرتے تھے: میں فاطمہ کی اس بات پر غصہ ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس مسئلہ پوچھنے گیا، میں نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رنگ دار کپڑے پہن لیے ہیں اور سرمہ بھی لگا لیا ہے اور کہتی ہیں: میرے والد نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ سچ کہتی ہے، وہ سچ کہتی ہے، وہ سچ کہتی ہے، اسے میں نے ہی حکم دیا تھا۔“سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا:”آپ نے کیا احرام باندھا ہے؟“انہوں نے عرض کیا: میں نے گزارش کی تھی: الہی! میں بھی اس چیز کا احرام باندھتا ہوں، جس کا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے باندھا ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے پاس تو قربانی کا جانور ہے، لہذا آپ بھی احرام نہ کھولیں۔“سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہدی کے جتنے جانور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(اپنے ساتھ) لائے تھے، وہ سو تھے، تریسٹھ جانور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ہاتھ سے ذبح کیے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیے، چنانچہ وہ انہوں نے ذبح کیے اور آپ نے ان کو اپنی ہدی میں شریک کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے کچھ حصہ لینے کا حکم دیا، وہ گوشت ایک ہنڈیا میں ڈالا گیا پھر ان دونوں نے اس کا گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے یہاں قربانی کی ہے اور منیٰ پورے کا پورا منحر (قربان گاہ) ہے۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے عرفہ میں وقوف کیا، تو فرمایا:”میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور عرفہ کا سارا میدان موقف ہے۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مزدلفہ میں وقوف کیا، تو فرمایا:”میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور مزدلفہ سارا ہی موقف ہے۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 465]
