عربی (اصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنْزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ وَهُمَا بِالْعَرْجِ، فَأَرْسَلُونِي إِلَىأَبِي أَيُّوبَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ فَسَلَّمْتُ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْسِلُ رَأْسَهُ هَكَذَا، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ".
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Hunain narrated: Ibn Abbas and al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with them) disagreed about the muhrim washing his head while they were at al-'Arj. They sent me to Abu Ayyub (may Allah be pleased with him). I found him bathing between two posts of a well. I greeted him, and he covered himself. I said: They sent me to ask you how the Messenger of Allah (peace be upon him) used to wash his head while in ihram. He said: I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) have water poured over his head, then he rubbed it with his hands, moving them back and forth.
اردو ترجمہ
عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ مقام عرج پر سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان محرم کے سر دھونے پر اختلاف ہوا، تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس آیا تو انہیں کنویں پر گاڑی ہوئی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے اپنا کپڑا سینے تک لپیٹ لیا۔ میں نے کہا: مجھے آپ کے بھتیجے نے یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ آپ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو حالت احرام میں سر کیسے دھوتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس طرح سر دھوتے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سر پر آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لاتے تھے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 441]
