عربی (اصل)
حَدَّثَنَاأَبُو جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: ثَنَامُعَاذُ بْنُ هِشَامٍرَحِمَهُ الله، ح وَثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثَنَامُعَاذٌ، قَالَ: ثَنِيأَبِي، عَنْقَتَادَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ"، هَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ وَزَادَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا تَكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Sarjis (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "None of you should urinate into a burrow." This is the wording of Ishaq's narration. People asked Qatadah: What is wrong with urinating into a burrow? He said: It is said that jinn inhabit them.
اردو ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: کوئی بل (سوراخ) میں پیشاب نہ کرے۔یہ اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں، انہوں نے مزید بیان کیا ہے کہ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: بِل میں پیشاب کرنے میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ ان میں جنات رہتے ہیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
