عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: ثني قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، قَالَ: فَشَهِدَتِابْنَ عَبَّاسٍحِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ، قَالَ" وَسَأَلْتَ عَنِالْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ".
انگریزی ترجمہ
Yazid ibn Hurmuz narrated that Najdah wrote to Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) asking him about various matters. Yazid said: 'I was present when Ibn Abbas read his letter and when he wrote back to him.' He said: 'You asked about women and slaves: whether they had a fixed share if they attended the battle. They had no fixed share, but they were given gifts from the spoils of war.'
اردو ترجمہ
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور ان سے مختلف مسائل دریافت کیے، یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب ان کا خط پڑھا اور انہیں اس کا جواب لکھا تو اس وقت میں ان کے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: تو نے مجھ سے عورت اور غلام کے متعلق پوچھا ہے کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوں تو کیا (غنیمت میں) ان کا حصہ مقرر ہے؟ ان دونوں کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا، بس قوم کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ تحفہ دے دیا جاتا تھا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1086]
