عربی (اصل)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِيأَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْيَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِابْنُ عَبَّاسٍ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَيَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا سَهْمٌ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ".
انگریزی ترجمہ
Yazid ibn Hurmuz narrated that Najdah wrote to Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), and Ibn Abbas wrote back: 'You asked me whether the Messenger of Allah (peace be upon him) used to take women on military expeditions. He did take them on expeditions; they would tend the sick and were given gifts from the spoils of war, but the Messenger of Allah (peace be upon him) did not allot them a fixed share.'
اردو ترجمہ
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: آپ نے مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا ہے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے؟ تو (جواب یہ ہے کہ) آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کیا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت میں سے تحفہ بھی دیا جاتا تھا، البتہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر نہیں کیا کرتے تھے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1085]
