عربی (اصل)
حَدَّثَنَامَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثناوَكِيعٌ، عَنْأُسَامَةَ بْنِ زَيْد، قَالَ: ثناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍمَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْو مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهِ إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لأَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا هَذَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ".
انگریزی ترجمہ
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: Two men from the Ansar came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) disputing about inheritances between them that had become unclear, with no evidence between them. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "You bring your disputes to me, but I am only a human being. Perhaps some of you are more eloquent in presenting their argument than others. I only judge between you based on what I hear from you. So whoever I judge in his favor something from his brother's right, let him not take it, for I am only cutting for him a piece of the Fire — he will come with it as a brand around his neck on the Day of Resurrection." The two men wept and each said: My right is for my brother. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Since you have done this, go and divide it between you, seek what is right, then draw lots, and let each of you forgive the other."
اردو ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو انصاری شخص رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے، جن کے درمیان پرانی وراثت کا جھگڑا تھا، ان دونوں کے پاس دلیل نہیں تھی، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہو، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، میں آپ سے جو سنتا ہوں، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں، جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں، تو وہ نہ لے، کیوں کہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن آگ بھڑکانے والے آلے کی صورت میں اپنی گردن میں ڈال کر لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں آدمی روتے ہوئے کہنے لگے: میں اپنا حق اپنے بھائی کو دیتا ہوں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اگر آپ ایسے کرنا چاہتے ہیں، تو جائیں اور حق و انصاف کے ساتھ مال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپس میں قرعہ اندازی کریں اور دونوں ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1000]
