عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا فَذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَاتَّبَعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ فَقِيلَ هَذَا مِنْ تَمْرِ أَهْلِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ فَلَمَّا آنَسَهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَؤُوا إِلَى فَدْفَدٍ وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ فَقَالُوا لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ قَوْمٍ كَافِرِينَ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ يَنْزِلُوا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَنَادَى الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرُّوهُ فَأَبَى أَنْ يَتَّبِعَهُمْ وَقَالَ لِي فِي هَؤُلَاءِ أُسْوَةٌ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرٍ وَكَانَ الْحَارِثُ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ يَسْتَحِدُّ بِهِ فَأَعَارَتْهُ قَالَتْ فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي حَتَّى أَتَاهُ فَأَخَذَهُ فَأَضْجَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزَعًا شَدِيدًا فَقَالَ خَشِيتِ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَكَانَتْ تَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فقَالَ دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزْعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ ثُمَّ قَالَ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent a reconnaissance expedition and appointed Asim ibn Thabit as their commander. They set out until they reached a point between Usfan and Makkah. They were reported to a clan of Hudhail called Banu Lihyan, who pursued them with about a hundred archers, following their tracks until they found date pits from Madinah dates. They said: These are from the dates of Yathrib. They continued tracking until they caught up with them. When Asim and his companions saw them, they took refuge on a hill. The people surrounded them and said: Come down to us, and you have our covenant that we will not kill any of you. Asim said: As for me, I shall not come down under the protection of disbelievers. O Allah, inform Your Messenger about us. They fought until Asim and seven others were killed. Khubayb ibn Adi, Zayd ibn al-Dathinah, and another man remained. They were given a pledge and came down, but were betrayed and bound. The third man refused to accompany them and was killed. Khubayb and Zayd were sold in Makkah. Before his execution, Khubayb asked to pray two units of prayer, thus being the first to establish this practice. He was then killed, and Allah sent upon the enemy a swarm of wasps like a cloud that prevented them from reaching the body of Asim.
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جاسوسی دستہ بھیجا اور عاصم بن ثابت کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ وہ نکلے یہاں تک کہ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے۔ ان کی خبر ہذیل کے ایک قبیلے بنو لحیان کو دی گئی جنہوں نے تقریباً سو تیر اندازوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ ان کے نشانات پر چلتے رہے یہاں تک کہ مدینے کی کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں۔ کہا: یہ یثرب والوں کی کھجوریں ہیں۔ تعاقب جاری رکھا یہاں تک کہ ان کو پا لیا۔ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کو دیکھا تو ایک ٹیلے پر پناہ لی۔ دشمنوں نے انہیں گھیر لیا اور کہا: اترو، ہم عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔ عاصم نے کہا: میں کافروں کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہمارے بارے میں اپنے رسول کو خبر دے۔ انہوں نے لڑائی کی یہاں تک کہ عاصم سمیت سات آدمی شہید ہوئے۔ خبیب بن عدی، زید بن دثنہ اور ایک اور شخص باقی رہے۔ انہیں عہد دیا گیا مگر دھوکہ دیا۔ تیسرے شخص نے ساتھ جانے سے انکار کیا اور شہید ہو گئے۔ خبیب اور زید مکہ میں بیچے گئے۔ قتل سے پہلے خبیب نے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی۔ یہ قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنے کی سنت قائم کرنے والے پہلے شخص تھے۔ پھر شہید ہوئے اور اللہ نے دشمنوں پر بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کا جھنڈ بھیجا جس نے انہیں عاصم کے جسم تک پہنچنے سے روک دیا۔
