عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ » قَالَ وَاحِدَةً قَالَ «آللَّهِ؟ » قَالَ آللَّهِ قَالَ «هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ»
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Ali ibn Yazid ibn Rukanah narrated from his father, from his grandfather, that he divorced his wife irrevocably (al-battah). He came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who asked: "What did you intend by it?" He said: "One (divorce)." He asked: "By Allah?" He said: "By Allah." He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "It is as you intended."
اردو ترجمہ
عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو قطعی (البتہ) طلاق دی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا: تمہاری اس سے کیا نیت تھی؟ انہوں نے کہا: ایک (طلاق)۔ آپ نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہاری نیت کے مطابق ہے۔
