عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» قَالَ فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «فَاضْرِبُوا» فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ حِينَ أَصْبَحَ «لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللَّهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارُكُمْ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Iyas ibn Abi Dhubab narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Do not beat the maidservants of Allah (i.e., women)." After that, the women became emboldened and their behavior toward their husbands worsened. Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) said: "The women have become emboldened and their behavior toward their husbands has worsened since you prohibited beating them." So the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Then beat them (lightly as a last resort)." So the people beat their wives that night. The next morning, many women came complaining about the beating. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Seventy women came to the household of Muhammad last night, all complaining about the beating. By Allah, you will not find that those (who beat their wives) are the best among you."
اردو ترجمہ
حضرت ایاس بن ابی ذباب سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی باندیوں (یعنی عورتوں) کو مت مارو۔ اس کے بعد عورتیں بے باک ہو گئیں اور ان کے اخلاق اپنے شوہروں کے ساتھ خراب ہو گئے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: جب سے آپ نے عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے عورتیں بے باک ہو گئی ہیں اور ان کے اخلاق شوہروں کے ساتھ خراب ہو گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مارو (ہلکی سزا بطور آخری چارہ)۔ لوگوں نے اس رات اپنی بیویوں کو مارا۔ صبح ہوئی تو بہت سی عورتیں مار کی شکایت لے کر آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آلِ محمد کے پاس آج رات ستر عورتیں آئیں جو سب مار کی شکایت کر رہی تھیں۔ اللہ کی قسم! تم ان (مارنے والوں) کو اپنے بہترین لوگ نہیں پاؤ گے۔
