عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَامَ فَزِعًا ثُمَّ قَالَ «إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) narrated: The sun was eclipsed during the time of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), so he stood up alarmed. Then he stated: «Indeed, these signs that Allah sends do not occur for the death of anyone nor for their life, but Allah sends them to frighten His servants with them. So when you see anything of that, hasten to His remembrance and seeking His forgiveness.»
اردو ترجمہ
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ گھبراہٹ میں کھڑے ہوئے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: «یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے کسی کی موت یا زندگی کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ اللہ انہیں بھیجتا ہے تاکہ ان سے اپنے بندوں کو ڈرائے۔ پس جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اس کی یاد اور اس سے استغفار کی طرف دوڑو۔»
