عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عُلَيٍّ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ «تَكُونُ هَدَّةٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ تُوقِظُ النَّائِمَ وَتُفْزِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ تَظْهَرُ عِصَابَةٌ فِي شَوَّالٍ ثُمَّ مَعْمَعَةٌ فِي ذِي الْحِجَّةِ ثُمَّ تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ فِي الْمُحَرَّمِ ثُمَّ يَكُونُ مَوْتٌ فِي صَفَرٍ ثُمَّ تَتَنَازَعُ الْقَبَائِلُ فِي الرَّبِيعِ ثُمَّ الْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ بَيْنَ جُمَادَى وَرَجَبٍ ثُمَّ نَاقَةٌ مُقَتَّبَةٌ خَيْرٌ مِنْ دَسْكَرَةٍ تُقِلُّ مِائَةَ أَلْفٍ» قَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِرُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ غَيْرَ مَسْلَمَةَ بْنِ عُلَيٍّ الْخُشَنِيِّ وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبُ الْمَتْنِ وَمَسْلَمَةُ أَيْضًا مِمَّنْ لَا تَقُومُ الْحُجَّةُ بِهِذا موضوع
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "There shall be a great crash in the month of Ramadan that shall awaken the sleeping and terrify the wakeful. Then a band shall appear in Shawwal, then a fierce battle in Dhu al-Hijjah. Then the sacred things shall be violated in Muharram. Then there shall be death in Safar. Then the tribes shall contend in Rabi'. Then the most wondrous of wonders shall be between Jumada and Rajab. Then a saddled she-camel shall be better than a fortress sheltering a hundred thousand." The two Shaykhs have relied upon all the narrators of this hadith except Maslamah ibn 'Ali al-Khushani. It is a hadith with a strange text, and Maslamah too is one by whom proof is not established. This is a fabricated report.
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «رمضان المبارک میں ایک بڑا دھماکا ہوگا جو سونے والے کو جگا دے گا اور جاگنے والے کو خوفزدہ کر دے گا۔ پھر شوال میں ایک جماعت ظاہر ہوگی، پھر ذوالحجہ میں شدید لڑائی ہوگی۔ پھر محرم میں حرمتیں پامال ہوں گی۔ پھر صفر میں موت ہوگی۔ پھر ربیع میں قبائل آپس میں جھگڑیں گے۔ پھر جمادی اور رجب کے درمیان عجب در عجب ہوگا۔ پھر ایک زین کشیدہ اونٹنی اس قلعے سے بہتر ہوگی جو ایک لاکھ لوگوں کو سمیٹے ہوئے ہو۔» شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے سوائے مسلمہ بن علی خشنی کے۔ یہ متن میں غریب حدیث ہے اور مسلمہ بھی ان میں سے ہے جن سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ یہ موضوع ہے۔
