عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَأَعْطِنِي قَالَ اكْتُبْ لَكَ بِدِرْعٍ وَمِغْفَرٍ فَتُعْطَاهُمَا فَتَسَخَّطَ الرَّجُلُ فَحَلَفَ عَدِيٌّ أَنْ لَا يُعْطِيَهُمَا إِيَّاهُ فَقَالَ الرَّجُلُ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُعْطِيَنِي وَصِيفًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَصِيفَيْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ فَاكْتُبْ لِي بِهِمَا فَقَالَ عَدِيٌّ أَمَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» مَا كَتَبْتُ لَكَ بِهِمَا قَالَ «فَكَتَبَ لَهُ بِهِمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ صحيح
انگریزی ترجمہ
Tamim al-Ta'i narrated: A man came to Hadrat Adi ibn Hatim (may Allah be well pleased with him) and said: "I have married a woman, so give me something." Adi said: "I will write you a note for a coat of armor and a helmet, and you will be given them." The man was displeased, so Adi swore that he would not give them to him. The man said: "I was hoping you would give me a servant." Adi said: "By Allah, they are more beloved to me than two servants." The man said: "Then write me the note for them." Adi said: "Indeed, I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'When one of you swears an oath and then sees something better than it, let him do that which is better.'" So he wrote him the note for them. This is a hadith with an authentic chain of transmission, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it with this wording. [Authentic].
اردو ترجمہ
تمیم طائی سے روایت ہے: ایک شخص حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے شادی کی ہے تو مجھے کچھ دیجیے۔ حضرت عدی نے فرمایا: میں تمہیں ایک زرہ اور خود کا پروانہ لکھ دیتا ہوں، تمہیں مل جائیں گی۔ وہ شخص ناراض ہوا تو حضرت عدی نے قسم کھائی کہ وہ انہیں نہیں دیں گے۔ اس شخص نے کہا: مجھے امید تھی آپ مجھے ایک غلام دیں گے۔ حضرت عدی نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ دونوں مجھے دو غلاموں سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس شخص نے کہا: تو مجھے ان کا پروانہ لکھ دیجیے۔ حضرت عدی نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے: «جب تم میں سے کوئی قسم کھائے پھر اس سے بہتر دیکھے تو وہ بہتر کام کرے۔» تو انہوں نے اسے دونوں کا پروانہ لکھ دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے اس سیاق سے روایت نہیں کیا۔ صحیح۔
