عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ الْفَضْلِ فَعَطَسَتْ فَشَمَّتُّهَا وَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى أُمِّي أَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا أَبُو مُوسَى قَالَتْ لَهُ عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتِ امْرَأَةٌ فَشَمَّتُّهَا فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ» قَالَتْ أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
انگریزی ترجمہ
Abu Burdah ibn Abi Musa narrated: "I was present with Abu Musa (may Allah be well pleased with him) while he was in the house of Umm al-Fadl. She sneezed, and he said Yarhamuk Allah to her. Then I sneezed, but he did not say Yarhamuk Allah to me. When I came to my mother, I informed her. When Abu Musa came to her, she said: 'My son sneezed in your presence and you did not say Yarhamuk Allah to him, but a woman sneezed and you said it to her.' He said: 'Your son sneezed but did not praise Allah, so I did not say Yarhamuk Allah to him. She sneezed and praised Allah, so I said it to her. I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "When one of you sneezes and praises Allah, then say Yarhamuk Allah to him, and when he does not praise Allah, then do not say it."' She said: 'You have done well, you have done well.'"
اردو ترجمہ
ابوبردہ بن ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا جب وہ اُمّ الفضل کے گھر میں تھے۔ انہوں نے چھینک ماری تو ابوموسیٰ نے 'یرحمک اللہ' کہا۔ پھر میں نے چھینک ماری تو انہوں نے مجھے 'یرحمک اللہ' نہیں کہا۔ جب میں اپنی والدہ کے پاس آیا تو انہیں بتایا۔ جب ابوموسیٰ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: آپ کے سامنے میرے بیٹے نے چھینک ماری تو آپ نے 'یرحمک اللہ' نہیں کہا اور ایک عورت نے چھینک ماری تو کہا۔ انہوں نے فرمایا: تمہارے بیٹے نے چھینک ماری لیکن اللہ کی حمد نہیں کی تو میں نے نہیں کہا، اور اس نے چھینک ماری اور اللہ کی حمد کی تو میں نے کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: "جب تم میں سے کوئی چھینکے اور اللہ کی حمد کرے تو اسے 'یرحمک اللہ' کہو، اور جب حمد نہ کرے تو نہ کہو۔" والدہ نے کہا: بہت اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔
