عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَن��ا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ثَنَا رَبَاحُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي السُّوقِ فِي إِمَارَةِ زِيَادٍ إِذْ ضَرَبْتُ بِإِحْدَى يَدَيَّ عَلَى الْأُخْرَى تَعَجُّبًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ كَانَتْ لِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِمَّا تَعْجَبُ يَا أَبَا بُرْدَةَ؟ قُلْتُ أَعْجَبُ مِنْ قَوْمٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَنَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ وَدَعْوَتُهُمْ وَاحِدَةٌ وَحَجُّهُمْ وَاحِدٌ وَغَزْوُهُمْ وَاحِدٌ يَسْتَحِلُّ بَعْضُهُمْ قَتْلَ بَعْضٍ قَالَ فَلَا تَعْجَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ وَالِدِي أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ إِنَّمَا عَذَابُهَا فِي الْقَتْلِ وَالزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Burdah narrates: While I was standing in the market during the governorship of Ziyad, I struck one hand upon the other in astonishment. An Ansari man whose father had companionship with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: "What astonishes you, O Abu Burdah?" I said: "I am astonished at a people whose religion is one, their prophet is one, their call is one, their pilgrimage is one, and their military expeditions are one, yet some of them consider it lawful to kill others." He said: "Do not be astonished, for I heard my father tell me that he heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: 'Indeed, my Ummah is an Ummah shown mercy. It will have no reckoning or punishment in the Hereafter. Its punishment is only through killing, earthquakes, and trials (in this world).'"
اردو ترجمہ
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں: میں زیاد کی حکومت کے زمانے میں بازار میں کھڑا تھا کہ میں نے حیرت سے ایک ہاتھ دوسرے پر مارا۔ انصار کے ایک شخص جن کے والد کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، نے پوچھا: اے ابو بردہ! کس بات پر حیران ہو؟ میں نے کہا: مجھے حیرت ہے ایسی قوم پر جن کا دین ایک ہے، نبی ایک ہے، دعوت ایک ہے، حج ایک ہے اور غزوہ ایک ہے، پھر بھی بعض لوگ بعض کا قتل حلال سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: حیران نہ ہو، میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: «بے شک میری امت رحم کی گئی امت ہے، آخرت میں اس پر نہ حساب ہے نہ عذاب۔ اس کا عذاب صرف قتل، زلزلوں اور فتنوں (سے دنیا میں) ہے۔»
