عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِالرَّيِّ ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ثَنَا جُمَيْعُ بْنُ ثَوْبٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَطُوبَى لِمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَلِمَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي» هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ بِأَسَانِيدَ قَرِيبَةٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِمَّا عَلَوْنَا فِي أَسَانِيدَ مِنْهَا وَأَقْرَبُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ إِلَى الصِّحَّةِ مَا ذَكَرْنَاهُ جميع بن ثوب واه
انگریزی ترجمہ
Abu Bakr Isma'il ibn Muhammad ibn Isma'il narrated to us in al-Rayy, Abu Hatim narrated to us, Yahya ibn Salih al-Wuhazi narrated to us, Jami' ibn Thawb narrated to us, Hadrat Abdullah ibn Busr (may Allah be well pleased with him), the companion of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Glad tidings to the one who saw me, and glad tidings to the one who saw the one who saw me, and to the one who saw the one who saw the one who saw me and believed in me.' This hadith has been narrated through chains that are close in their transmission from Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him), among which we have higher chains. The closest of these narrations to authenticity is what we have mentioned. Jami' ibn Thawb is weak.
اردو ترجمہ
ابو بکر اسماعیل بن محمد بن اسماعیل نے ری میں ہم سے بیان کیا، ابو حاتم نے ہم سے بیان کیا، یحییٰ بن صالح الوحاظی نے ہم سے بیان کیا، جمیع بن ثوب نے ہم سے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'خوشخبری ہے اسے جس نے مجھے دیکھا، اور خوشخبری ہے اسے جس نے مجھے دیکھنے والے کو دیکھا، اور اسے جس نے مجھے دیکھنے والے کو دیکھنے والے کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔' یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قریبی اسانید سے مروی ہے جن میں سے ہمارے پاس عالی اسانید ہیں۔ ان روایات میں سے صحت کے سب سے قریب وہ ہے جو ہم نے ذکر کی۔ جمیع بن ثوب ضعیف ہیں۔
