عربی (اصل)
كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثَنَا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ الْكِنْدِيُّ عَنْ كُرَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكِنْدِيِّ قَالَ أَخَذَ بِيَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ حَتَّى انْطَلَقَ بِي إِلَى رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَدِ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ وَهُوَ يُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ حَتَّى فَرَغَ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَدِيثَ الَّذِي ذَكَرْتَ عَنْ أُمِّكَ فِي شَأْنِ الرُقَيَّةِ فَقَالَ نَعَمْ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي بِرُقَيَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَتْ لَا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ «ارْقِي مَا لَمْ يَكُنْ شِرْكٌ بِاللَّهِ ﷻ» أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي بِرُقَيَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَتْ لَا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ «ارْقِي مَا لَمْ يَكُنْ شِرْكٌ بِاللَّهِ ﷻ»
انگریزی ترجمہ
Ali ibn al-Husayn ibn Ali took Kurayb ibn Sulayman al-Kindi by the hand to a man from Quraysh called Ibn Abi Hathmah who was praying nearby. When he finished his prayer, Ali ibn al-Husayn asked him about the hadith he mentioned from his mother regarding ruqyah. He said: "Yes, my mother told me that she used to perform ruqyah in the pre-Islamic era. When Islam came, she said: 'I will not perform ruqyah until I seek the permission of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to her: 'Perform ruqyah as long as it does not involve associating partners with Allah the Exalted.'"
اردو ترجمہ
حضرت علی بن حسین بن علی نے کریب بن سلیمان الکندی کا ہاتھ پکڑا اور قریش کے ایک شخص کے پاس لے گئے جسے ابن ابی حثمہ کہا جاتا تھا اور وہ قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو علی بن حسین نے اس سے پوچھا اس حدیث کے بارے میں جو اس نے اپنی والدہ سے رقیہ کے بارے میں ذکر کیا تھا۔ اس نے کہا: ہاں، میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ زمانۂ جاہلیت میں رقیہ کیا کرتی تھیں۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے کہا: میں رقیہ نہیں کروں گی جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رقیہ کرو جب تک اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ ہو۔"
