عربی (اصل)
فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ كَمْ أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَزْوَاجَهُ قَالَتْ «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لِأَزْوَاجِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ وَإِنَّمَا أَصْدَقَ النَّجَاشِيُّ أُمَّ حَبِيبَةَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ اسْتِعْمَالًا لِأَخْلَاقِ الْمُلُوكِ فِي الْمُبَالَغَةِ فِي الصَّنَائِعِ لِاسْتِعَانَةِ النَّبِيِّ ﷺ بِهِ فِي ذَلِكَ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Salamah ibn Abd al-Rahman (may Allah be well pleased with him) asked Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her): "How much was the dowry that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave his wives?" She replied: "His dowry for his wives was twelve and a half uqiyyah, which is five hundred dirhams. This was the dowry of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for his wives." This hadith has an authentic chain. The ruling is based on it. The Negus gave Umm Habibah a dowry of four hundred dinars as an expression of the generosity of kings in going to great lengths in their favors, since the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had sought his assistance in that matter.
اردو ترجمہ
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: "حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو کتنا مہر دیا؟" انہوں نے فرمایا: "آپ کا اپنی ازواج مطہرات کے لیے مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، یعنی پانچ سو درہم۔ یہی حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی ازواج مطہرات کے لیے مہر تھا۔" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسی پر عمل ہے۔ نجاشی نے اُمّ حبیبہ کو چار سو دینار مہر دیا، یہ بادشاہوں کی عادت تھی کہ وہ احسانات میں بہت آگے بڑھتے تھے کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس میں مدد چاہی تھی۔
