عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلٌ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلٌ فَاجِرٌ جَرِيءٌ يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood in the year of Tabuk and addressed the people while leaning his back against a palm tree, and stated: 'Shall I not inform you of the best and worst of people? Among the best of people is a man who strives in the cause of Allah on the back of his horse, or on the back of his camel, or on his feet, until death comes to him. And among the worst of people is a wicked and bold man who recites the Book of Allah but does not heed anything in it.' This hadith has a sound chain of narration, and they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تبوک کے سال کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ کی پشت کھجور کے درخت سے ٹیک لگائے ہوئے تھی، اور ارشاد فرمایا: «کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ بہترین لوگوں میں سے وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے پر، یا اپنے اونٹ پر، یا اپنے قدموں پر چلتا رہے یہاں تک کہ اُسے موت آ جائے۔ اور بدترین لوگوں میں سے وہ فاجر بےباک شخص ہے جو اللہ کی کتاب پڑھتا ہے مگر اُس کی کسی بات کی پروا نہیں کرتا۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
