عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيل�� بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ «هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟» فَسَكَتَ الْقَوْمُ وَكَانَ إِذَا ابْتَغَاهُمْ بِشَيْءٍ سَكَتُوا ثُمَّ قَالَ هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ فَقَالَ رَجُلٌ هَذَا فُلَانٌ فَقَالَ «إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ» فَقَالَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَيْنُهُ فَقَضَاهُ وَهَكَذَا رَوَاهُ فِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Samura ibn Jundab (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) prayed one day and when he turned to face the congregation, he asked: 'Is there anyone here from such-and-such tribe?' The people remained silent, for whenever he sought them out for something, they would remain quiet. Then he asked again: 'Is there anyone here from such-and-such tribe?' A man said: 'Here is so-and-so.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed, your companion has been detained at the gate of Paradise due to a debt that was upon him.' A man then said: 'I will take responsibility for his debt,' and he paid it off.
اردو ترجمہ
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر جب متوجہ ہوئے تو فرمایا: «یہاں فلاں قبیلے سے کوئی ہے؟» لوگ خاموش رہے، کیونکہ جب بھی آپ اُنہیں کسی بات کے لیے ڈھونڈتے تو وہ خاموش رہتے۔ پھر فرمایا: یہاں فلاں قبیلے سے کوئی ہے؟ ایک شخص نے کہا: یہ فلاں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «تمہارا ساتھی جنت کے دروازے پر اُس قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے جو اُس پر تھا۔» ایک شخص نے کہا: اُس کا قرض میرے ذمے ہے، اور اُس نے ادا کر دیا۔
