عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لِي مَبِيتٌ إِلَّا فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ يَأْتُونَهُ فَيَقُصُّونَ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا لِي لَا أَرَى شَيْئًا؟ فَرَأَيْتُ كَأَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ فَيُرْمَى بِهِمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ فِي رَكِيٍّ فَأُخِذْتُ، فَلَمَّا دَنَى إِلَى الْبِئْرِ، قَالَ رَجُلٌ : خُذُوا بِهِ ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظْتُ، هَمَّتْنِي رُؤْيَايَ وَأَشْفَقْتُ مِنْهَا، فَسَأَلْتُ حَفْصَةَ عَنْهَا، فَقَالَتْ : نِعْمَ مَا رَأَيْتَ. فَقُلْتُ لَهَا : سَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ :" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ". حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ، لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ. قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated: During the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I had no place to sleep except in the Mosque of the Prophet. When the Prophet would rise in the morning, people would come and narrate their dreams to him. I wished I could also see a dream. One night I saw as if people were being gathered and thrown into the Fire. Then I was told: 'Fear not.' I narrated this to Hadrat Hafsah (may Allah be well pleased with her), who told it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: 'What an excellent man Abdullah is, if only he would pray at night.' After that, Abdullah never abandoned the night prayer.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں میرا سونے کا ٹھکانہ مسجد نبوی کے سوا کہیں نہ تھا۔ جب آپ صبح ہوتے تو لوگ آتے اور اپنے خواب سناتے۔ میں نے سوچا کاش مجھے بھی کوئی خواب آئے۔ ایک رات میں نے دیکھا جیسے لوگوں کو جمع کیا جا رہا ہے اور آگ میں ڈالا جا رہا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا: ڈرو نہیں۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: 'عبداللہ کیا اچھا آدمی ہے، کاش وہ رات کو نماز پڑھا کرے۔' اس کے بعد عبداللہ نے تہجد کبھی نہیں چھوڑی۔
