عربی (اصل)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ اَلشَّرِيدِ, عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ لَيُّ اَلْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ } رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ, وَالنَّسَائِيُّ, وَعَلَّقَهُ اَلْبُخَارِيُّ, وَصَحَّحَهُ اِبْنُ حِبَّانَ 1 .1 - حسن. رواه البخاري معلقا ( 5 / 62 )، ووصله أبو داود ( 3628 )، والنسائي ( 7 / 316 )، وأيضا ابن ماجه ( 3627 )، وابن حبان ( 1164 ). وقال الحافظ في " الفتح ": " إسناده حسن ". و" اللي ": المطل. و " الواجد ": الغني. علق البخاري عن سفيان قوله: عرضه: يقول: مطلتني. وعقوبته: الحبس. قلت: ودليل الحبس في الشريعة حديث بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، أن النبي -صلى الله عليه وسلم- حبس رجلا في تهمة، ثم خلى عنه وهو حديث حسن، وقد خرجته في كتاب " الأقضية النبوية " لابن الطلاع -يسر الله نشره-.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Amr bin ash-Sharid on the authority of his father that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Delay in payment on the part of one who possesses the means, makes it lawful to dishonor and punish him." .
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار شخص کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا کو جائز کر دیتا ہے۔ اسے ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا، بخاری نے معلقاً ذکر کیا اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا۔
