حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ ابْنَ الأُتَبِيَّةِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَاسَبَهُ قَالَ هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَبَيْتِ أُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالاً مِنْكُمْ عَلَى أُمُورٍ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ، فَيَأْتِي أَحَدُكُمْ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلاَّ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، فَوَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ـ قَالَ هِشَامٌ ـ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ جَاءَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلاَ فَلأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ اللَّهَ رَجُلٌ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بِبَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Humaid al-Sa'idi (may Allah be well pleased with him) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Ibn al-Utabiyya to collect the Zakat from the Banu Sulaim. When he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and was called to account, he said: 'This is for you (the treasury) and this was given to me as a gift.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'Why did you not stay in the house of your father or mother and see whether your gift would come to you — if you are truthful?' Then he stood up and addressed the people. After praising and glorifying Allah, he declared: 'To proceed: I appoint some men from among you to duties that Allah has entrusted to me, and then one of you comes and says: This is for you and this is a gift for me. Why did he not sit in the house of his father or mother to see if his gift would come to him — if he is truthful? By Allah, none of you takes anything from it unlawfully except that he will come before Allah on the Day of Resurrection carrying it — if it is a camel, it will be grunting; if a cow, it will be lowing; if a sheep, it will be bleating.' Then he raised both hands until I could see the whiteness of his armpits, and declared: 'Have I not conveyed!'
اردو ترجمہ
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابن الاُتَبیّہ کو بنی سُلَیم کے صدقے کی وصولی کے لیے عامل مقرر فرمایا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور حساب دیا تو کہنے لگے: یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیے میں ملا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھ کر دیکھتے، وہاں بھی تمہیں ہدیہ ملتا؟ پھر آپ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: بعد حمد! میں تم میں سے لوگوں کو ان کاموں پر مقرر کرتا ہوں جو اللہ نے مجھے سونپے ہیں، پھر تم میں سے کوئی آتا ہے اور کہتا ہے: یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہتا — اگر وہ سچا ہے تو وہاں بھی اسے ہدیہ ملتا! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی ناحق اس مال سے کچھ لے گا تو قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا — اگر اونٹ ہوگا تو بلبلاتا ہوا، گائے ہوگی تو ڈکراتی ہوئی، بکری ہوگی تو ممیاتی ہوئی۔ پھر آپ نے دونوں ہاتھ اتنے اونچے اٹھائے کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اور فرمایا: کیا میں نے پہنچا نہیں دیا!
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (13)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وس…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اسْتَعْم…
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ ابْنَ الأُتَبِيَّةِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَاسَبَهُ قَالَ هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَبَيْتِ أُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالاً مِنْكُمْ عَلَى أُمُورٍ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ، فَيَأْتِي أَحَدُكُمْ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلاَّ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، فَوَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ـ قَالَ هِشَامٌ ـ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ جَاءَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلاَ فَلأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ اللَّهَ رَجُلٌ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بِبَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ".
Hadrat Abu Humaid al-Sa'idi (may Allah be well pleased with him) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Ibn al-Utabiyya to collect the Zakat from the Banu Sulaim. When he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and was called to account, he said: 'This is for you (the treasury) and this was given to me as a gift.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'Why did you not stay in the house of your father or mother and see whether your gift would come to you — if you are truthful?' Then he stood up and addressed the people. After praising and glorifying Allah, he declared: 'To proceed: I appoint some men from among you to duties that Allah has entrusted to me, and then one of you comes and says: This is for you and this is a gift for me. Why did he not sit in the house of his father or mother to see if his gift would come to him — if he is truthful? By Allah, none of you takes anything from it unlawfully except that he will come before Allah on the Day of Resurrection carrying it — if it is a camel, it will be grunting; if a cow, it will be lowing; if a sheep, it will be bleating.' Then he raised both hands until I could see the whiteness of his armpits, and declared: 'Have I not conveyed!'
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابن الاُتَبیّہ کو بنی سُلَیم کے صدقے کی وصولی کے لیے عامل مقرر فرمایا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور حساب دیا تو کہنے لگے: یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیے میں ملا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھ کر دیکھتے، وہاں بھی تمہیں ہدیہ ملتا؟ پھر آپ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: بعد حمد! میں تم میں سے لوگوں کو ان کاموں پر مقرر کرتا ہوں جو اللہ نے مجھے سونپے ہیں، پھر تم میں سے کوئی آتا ہے اور کہتا ہے: یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہتا — اگر وہ سچا ہے تو وہاں بھی اسے ہدیہ ملتا! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی ناحق اس مال سے کچھ لے گا تو قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا — اگر اونٹ ہوگا تو بلبلاتا ہوا، گائے ہوگی تو ڈکراتی ہوئی، بکری ہوگی تو ممیاتی ہوئی۔ پھر آپ نے دونوں ہاتھ اتنے اونچے اٹھائے کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اور فرمایا: کیا میں نے پہنچا نہیں دیا!
وعن أبي حميد عبد الرحمن بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال: استعمل النبي رجلاً من الأزد يقال له: ابن اللتبية على الصدقة، فلما قدم قال : هذا لكم، وهذا أهدي إلي، فقام رسول الله صل…