عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ". ثُمَّ قَالَ " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". وَقَالَ " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا لاَسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ". " وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'A man was walking along a path when he found a thorny branch lying on the road, so he removed it. Allah appreciated his action and forgave him.' Then he stated: 'The martyrs are five: one who dies of plague, one who dies of an abdominal disease, one who drowns, one who is crushed (under a falling structure), and one who is killed in the path of Allah.' He also stated: 'If people knew the reward of calling the Adhan and standing in the first row, and could not attain it except by drawing lots, they would certainly draw lots. If they knew the reward of coming early for the Zuhr prayer, they would race to it. And if they knew the reward of the Isha and Fajr prayers (in congregation), they would come to them even if they had to crawl on their knees.'
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا کہ اس نے کانٹوں کی ایک شاخ راستے میں پڑی دیکھی تو اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: شہید پانچ قسم کے ہیں: طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوبنے والا، (مکان وغیرہ) دب کر مرنے والا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونے والا۔ پھر فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے اور قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو ضرور قرعہ ڈالیں۔ اگر معلوم ہو جائے کہ ظہر کی نماز جلدی آنے میں کتنا اجر ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اور اگر عشاء اور فجر کا ثواب معلوم ہو جائے تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے آئیں۔
