Narrated Hadrat Abdullah bin 'Amr (may Allah be well pleased with them both): The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was told about my fasting, so he came to me. I offered him a leather cushion stuffed with date-palm fiber, but he sat on the ground and the cushion remained between me and him. He stated to me, "Is it not sufficient for you to fast three days every month?" I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Five days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Seven days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Nine days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Eleven days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "There is no fast superior to that of Dawud (blessings and peace of Allah be upon him), which is half the time — fasting one day and breaking the fast the next day.
اردو ترجمہ
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوالملیح نے خبر دی، کہا میں تمہارے والد زید کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے لیے چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان رہ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے لیے ہر مہینے تین دن کے روزے کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: پانچ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: سات دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: نو دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں جو آدھا زمانہ ہے، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔
900/1176(صحيح)عن أبي قلابة قال: أخبرني أبو المليح قال: دخلت مع أبيك؛ زيد على عبد الله بن عمرو، فحدثنا: أن النبي صلى الله عليه وسلم ذُكر له صومي، فدخل عليه، فألقيت له وسادة من أدم ح…
Narrated Hadrat Abdullah bin 'Amr (may Allah be well pleased with them both): The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was told about my fasting, so he came to me. I offered him a leather cushion stuffed with date-palm fiber, but he sat on the ground and the cushion remained between me and him. He stated to me, "Is it not sufficient for you to fast three days every month?" I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Five days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Seven days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Nine days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Eleven days." I submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "There is no fast superior to that of Dawud (blessings and peace of Allah be upon him), which is half the time — fasting one day and breaking the fast the next day.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوالملیح نے خبر دی، کہا میں تمہارے والد زید کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے لیے چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان رہ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے لیے ہر مہینے تین دن کے روزے کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: پانچ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: سات دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: نو دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں جو آدھا زمانہ ہے، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔