عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلاَةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلاَتِهِ قَاعِدًا ـ تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ـ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهِمَا، وَلاَ يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ.
انگریزی ترجمہ
Narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) who said: By Allah Who took the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) unto Himself! He never abandoned the two rak'at after 'Asr until he met Allah the Exalted, and he did not meet Allah the Exalted until standing for prayer became difficult for him, and he would offer most of his prayers seated — meaning the two rak'at after 'Asr. Although the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to offer them regularly, he would not pray them in the mosque out of concern that it might become burdensome for his Ummah, and he loved ease for them.
اردو ترجمہ
ہم سے حضرت ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد ایمن نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی ترک نہیں فرمائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اُس وقت تک نہ ملے جب تک نماز میں کھڑا ہونا آپ کے لیے دشوار نہ ہو گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیشتر نمازیں بیٹھ کر ادا فرمانے لگے تھے — یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں پابندی سے ادا فرماتے تھے مگر مسجد میں نہیں پڑھتے تھے اس خوف سے کہ کہیں اُمت پر بوجھ نہ ہو جائے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی اُمت کے لیے آسانی پسند تھی۔
