عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat `Hadrat Imran bin Husain that the Verse of Hajj-at-Tamattu was revealed in Allah's Book, so we performed it with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and nothing was revealed in Qur'an to make it illegal, nor did the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) prohibit it till he died. But the man (who regarded it illegal) just expressed what his own mind suggested
اردو ترجمہ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ ( حج میں ) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ ( حج ) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گئی ( لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے ) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔
