عربی (اصل)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ صَحِيحٌ " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخَيَّرَ ". فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ". فَقُلْتُ إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا. وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ قَالَتْ فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that when the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was healthy, he used to say, 'No soul of a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) is captured until he is shown his place in Paradise, and then he is given the option.' When he (blessings and peace of Allah be upon him) was about to depart this world and his blessed head was on my thigh, he became unconscious. Then when he regained consciousness, he looked at the ceiling and said, 'O Allah! With the Highest Companion!' I (Hadrat Aisha) said, 'He did not choose us (but chose the Hereafter).' And I understood the hadith he used to tell us, that no the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) departs this world until he is shown his place in Paradise and given the choice.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تندرستی کے زمانے میں ارشاد فرماتے تھے: کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک اسے جنت میں اپنا مقام نہ دکھا دیا جائے، پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے (کہ دنیا میں رہے یا آخرت کو جائے)۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہونے لگا اور آپ کا سرِ مبارک میری ران پر تھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہوئے۔ پھر جب ہوش آیا تو چھت کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! الرفیق الاعلیٰ کے ساتھ! مَیں نے (حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کہا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار نہیں فرمایا (بلکہ آخرت کو ترجیح دی) اور مجھے وہ حدیث سمجھ آ گئی جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمیں سناتے تھے کہ کوئی نبی وفات نہیں پاتا جب تک اسے جنت میں اپنا مقام نہ دکھا دیا جائے اور اختیار نہ دے دیا جائے۔
