عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ، ذَكَرَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دُفِعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ كَانَ بِالْهَاجِرَةِ، خَرَجَ بِلاَلٌ فَنَادَى بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَأْخُذُونَ مِنْهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ سَاقَيْهِ فَرَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Juhaifa that By chance I went to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at noon while he was at Al-Abtah (resting) in a tent. Hadrat Bilal came out (of the tent) and pronounced the Adhan for the prayer, and entering again, he brought out the water which was left after the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had performed the ablution. The people rushed to take some of the water. Hadrat Bilal again went in and brought out a spear-headed stick, and then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out. As if I were now looking at the whiteness of his leg. Hadrat Bilal fixed the stick and the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) offered a two-rak`at Zuhr prayer and a two-rak`at `Asr prayer, while women and donkeys were passing in front of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (beyond the stick)
اردو ترجمہ
ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا، وہ اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے نقل کرتے تھے کہ میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابطح میں ( محصب میں ) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آ گئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( سترہ کے لیے ) نیزہ گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔
