It is narrated by Hadrat Masruq that I asked Um Ruman, `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her)'s mother about the accusation forged against `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her). She said, "While I was sitting with `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her), an Ansari woman came to us and said, 'Let Allah condemn such-and-such person.' I asked her, 'Why do you say so?' She replied, 'For he has spread the (slanderous) story.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said, 'What story?' The woman then told her the story. `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) asked, 'Have Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) heard about it ?' She said, 'Yes.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) fell down senseless (on hearing that), and when she came to her senses, she got fever and shaking of the body. the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came and asked, 'What is wrong with her?' I said, 'She has got fever because of a story which has been rumored.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) got up and said, 'By Allah! Even if I took an oath, you would not believe me, and if I put forward an excuse, You would not excuse me. My example and your example is just like that example of Hadrat Ya'qub (upon him be peace) and his sons. Against that which you assert, it is Allah (Alone) Whose Help can be sought.' (12.18) the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) left and then Allah revealed the Verses (concerning the matter), and on that `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said, 'Thanks to Allah (only) and not to anybody else
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن فضیل نے خبر دی ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں جو بہتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک انصاریہ عورت ہمارے یہاں آئی اور کہا کہ اللہ فلاں ( مسطح بن اثاثہ ) کو تباہ کر دے اور وہ اسے تباہ کر بھی چکا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ اسی نے تو یہ جھوٹ مشہور کیا ہے۔ پھر انصاریہ عورت نے ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت کا سارا ) واقعہ بیان کیا۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اپنی والدہ سے ) پوچھا کہ کون سا واقعہ؟ تو ان کی والدہ نے انہیں واقعہ کی تفصیل بتائی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے پوچھا کہ کیا یہ قصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بھی معلوم ہو گیا ہے؟ ان کی والدہ نے بتایا کہ ہاں۔ یہ سنتے ہی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیہوش ہو کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ ایک بات ان سے ایسی کہی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آ گیا ہے۔ پھر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہا اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نہیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے ( کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کہانی سن کر فرمایا تھا کہ ) ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس پر اللہ ہی کی مدد چاہتا ہوں۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وہ نازل فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی خبر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دی تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔
It is narrated by Hadrat Masruq that I asked Um Ruman, `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her)'s mother about the accusation forged against `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her). She said, "While I was sitting with `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her), an Ansari woman came to us and said, 'Let Allah condemn such-and-such person.' I asked her, 'Why do you say so?' She replied, 'For he has spread the (slanderous) story.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said, 'What story?' The woman then told her the story. `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) asked, 'Have Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) heard about it ?' She said, 'Yes.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) fell down senseless (on hearing that), and when she came to her senses, she got fever and shaking of the body. the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came and asked, 'What is wrong with her?' I said, 'She has got fever because of a story which has been rumored.' `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) got up and said, 'By Allah! Even if I took an oath, you would not believe me, and if I put forward an excuse, You would not excuse me. My example and your example is just like that example of Hadrat Ya'qub (upon him be peace) and his sons. Against that which you assert, it is Allah (Alone) Whose Help can be sought.' (12.18) the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) left and then Allah revealed the Verses (concerning the matter), and on that `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said, 'Thanks to Allah (only) and not to anybody else
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن فضیل نے خبر دی ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں جو بہتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک انصاریہ عورت ہمارے یہاں آئی اور کہا کہ اللہ فلاں ( مسطح بن اثاثہ ) کو تباہ کر دے اور وہ اسے تباہ کر بھی چکا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ اسی نے تو یہ جھوٹ مشہور کیا ہے۔ پھر انصاریہ عورت نے ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت کا سارا ) واقعہ بیان کیا۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اپنی والدہ سے ) پوچھا کہ کون سا واقعہ؟ تو ان کی والدہ نے انہیں واقعہ کی تفصیل بتائی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے پوچھا کہ کیا یہ قصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بھی معلوم ہو گیا ہے؟ ان کی والدہ نے بتایا کہ ہاں۔ یہ سنتے ہی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیہوش ہو کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ ایک بات ان سے ایسی کہی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آ گیا ہے۔ پھر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہا اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نہیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے ( کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کہانی سن کر فرمایا تھا کہ ) ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس پر اللہ ہی کی مدد چاہتا ہوں۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وہ نازل فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی خبر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دی تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔