عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، فَحَدَّثَهُمَا بَجَالَةُ، سَنَةَ سَبْعِينَ ـ عَامَ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ ـ عِنْدَ دَرَجِ زَمْزَمَ قَالَ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ. وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ. حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرٍ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat 'Amr bin Dinar (upon him be mercy) that he said: I was sitting with Jabir bin Zaid and 'Amr bin Aws when Bajala narrated to them in the year 70 AH — the year in which Mus'ab bin al-Zubair led the people of Basra for Hajj — at the steps of Zamzam. He said: I was the scribe of Juz' bin Mu'awiya, the paternal uncle of Hadrat Ahnaf (may Allah be well pleased with him). A letter from Hadrat ' Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) reached us one year before his passing, stating: Separate every Magian couple who are in a prohibited degree of kinship. And Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) had not taken the Jizyah from the Magians until Hadrat ' Abd al-Rahman bin 'Awf (may Allah be well pleased with him) testified that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had taken the Jizyah from the Magians of Hajar.
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ میں حضرت جابر بن زید اور عمرو بن اوس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو بجالہ نے سنہ ستر ہجری میں، اسی سال جب مصعب بن حضرت زبیر اہلِ بصرہ کے ساتھ حج لے کر آئے تھے، زمزم کی سیڑھیوں کے پاس ان سے بیان کیا کہ میں جزء بن حضرت معاویہ جو حضرت احنف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا تھے، ان کا کاتب تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے ہمارے پاس آیا کہ ہر مجوسی محرم رشتے میں جو شادی ہوئی ہو اسے الگ کر دو۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
